حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کچھ خبریں صرف سنی نہیں جاتیں، دل پر گرتی ہیں، کچھ جدائیاں صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتیں، انسان کے اندر ایک پوری دنیا ویران کر دیتی ہیں اور ماں کی جدائی۔۔۔ شاید ان تمام غموں میں سب سے بڑا غم ہے۔
نہایت رنج و الم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ ہمارے محترم، عزیز و بزرگ بھائی حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابو القاسم صاحب رضوی کی والدۂ محترمہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئی ہیں۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
ماں۔۔۔
یہ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک پوری کائنات کا نام ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کے چہرے کو دیکھ کر اس کے دل کا حال پڑھ لیتی ہے۔ جس کے لیے اولاد کی خوشی اپنی خوشی اور اولاد کا دکھ اپنا دکھ ہوتا ہے۔ دنیا میں شاید بہت سے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں، مگر ماں وہ ہوتی ہے جو آپ کے گرنے سے پہلے آپ کو تھام لیتی ہے، آپ کے بولنے سے پہلے آپ کی بات سمجھ لیتی ہے اور آپ کے مانگنے سے پہلے آپ کے لیے دعا کر دیتی ہے۔
ماں کی دعا۔۔۔
وہ دعا جس کا کوئی بدل نہیں۔
ماں کی آواز۔۔۔
وہ آواز جسے سننے کے لیے انسان دنیا کے کسی بھی کونے سے لوٹ آتا ہے۔
ماں کی آغوش۔۔۔
وہ جگہ جہاں بڑے سے بڑا دکھ بھی کچھ دیر کے لیے چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔
اور جب یہی ماں خاموش ہوجائے۔۔۔
جب اس کے ہونٹوں پر دعاؤں کی جگہ سکوت اتر آئے۔۔۔
جب وہ ہاتھ، جو ساری عمر اولاد کے لیے اٹھتے رہے، ہمیشہ کے لیے ساکت ہوجائیں۔۔۔
جب گھر میں وہ آواز سنائی نہ دے جس کے بغیر کبھی گھر مکمل محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔۔
تو پھر انسان کے پاس آنسوؤں کے سوا رہ ہی کیا جاتا ہے؟
انسان عمر بھر بڑا ہونے کا دعویٰ کرتا رہتا ہے، مگر ماں کے جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کتنا چھوٹا اور کتنا بے سہارا تھا۔
مولانا سید ابو القاسم رضوی صاحب اور ان کی والدۂ محترمہ کے درمیان محبت کا رشتہ بھی معمولی نہ تھا۔ ماں کی محبت انہیں آسٹریلیا جیسے دور دیار میں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیتی تھی۔ ہزاروں میل کا فاصلہ، طویل سفر اور دنیا کی مصروفیات بھی اس محبت کے سامنے بے معنی ہوجاتی تھیں۔ آپ اپنی والدۂ محترمہ کی زیارت، خدمت اور دست بوسی کے لیے سال میں کئی مرتبہ آسٹریلیا سے ہندوستان تشریف لاتے تھے۔
یہ سوچ کر ہی دل بھر آتا ہے کہ ابھی اسی ہفتے۔۔۔
آپ اپنی ماں کے پاس بیٹھے ہوں گے۔۔۔
ان کے چہرے کو دیکھا ہوگا۔۔۔
ان کے ہاتھ چومے ہوں گے۔۔۔
ان سے دعائیں لی ہوں گی۔۔۔
شاید ماں نے جاتے ہوئے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوں گے۔۔۔
شاید ہمیشہ کی طرح کہا ہوگا کہ اپنا خیال رکھنا۔۔۔
شاید نگاہیں دروازے تک آپ کا پیچھا کرتی رہی ہوں گی۔۔۔
اور پھر آپ آسٹریلیا پہنچے ہی تھے کہ اچانک وہ خبر آگئی جس نے فاصلے کو ہمیشہ کی جدائی میں بدل دیا۔
وہ ماں جس سے مل کر آپ ابھی لوٹے تھے، اب دوبارہ ملنے کے لیے دنیا میں موجود نہیں۔
یہ جملہ لکھتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔
کتنی عجیب ہوتی ہے زندگی۔۔۔
انسان کسی کو الوداع کہتا ہے تو اسے کیا معلوم کہ یہ الوداع آخری ہے۔
ماں کے ہاتھوں کی گرمی ابھی یاد میں تازہ ہو۔۔۔
ان کی آواز ابھی کانوں میں گونج رہی ہو۔۔۔
ان کی دعائیں ابھی دل میں بسی ہوں۔۔۔
اور اچانک معلوم ہو کہ اب وہ ہاتھ کبھی سر پر نہیں رکھے جائیں گے۔۔۔
اب وہ آواز کبھی نام لے کر نہیں پکارے گی۔۔۔
اب سفر سے واپسی پر وہ دروازے کی طرف نہیں دیکھے گی۔۔۔
اب فون کی گھنٹی بجے گی تو دوسری طرف ماں کی آواز نہیں ہوگی۔۔۔
یہ وہ غم ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
کاش! انسان کو معلوم ہوتا کہ کسی عزیز سے ہونے والی یہ ملاقات آخری ملاقات ہے۔۔۔
کاش! رخصت ہوتے وقت انسان کچھ دیر اور بیٹھ جاتا۔۔۔
کاش! ماں کے ہاتھ کچھ دیر اور تھام لیتا۔۔۔
کاش! جاتے ہوئے ایک بار پھر اس کے چہرے کو دیکھ لیتا۔۔۔
کاش! دل کہہ دیتا کہ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔۔۔
مگر تقدیر کسی کو خبر نہیں دیتی۔
وہ اپنا فیصلہ سناتی ہے اور انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:
رِضاً بِقَضَائِهِ وَتَسْلِیماً لِأَمْرِهِ۔
ہم تیرے فیصلے پر راضی ہیں، اے پروردگار۔۔۔
مگر اے خدا! تو جانتا ہے کہ دل کتنا ٹوٹا ہوا ہے۔
آج ایک ماں دنیا سے رخصت ہوئی ہے، مگر اپنے پیچھے صرف ایک خاندان کو سوگوار نہیں چھوڑ گئی؛ وہ اپنے بیٹے کے دل میں ایسی خاموشی چھوڑ گئی ہے جسے شاید عمر بھر کوئی آواز پُر نہ کرسکے۔
ماں کے جانے کے بعد انسان کو اپنی بہت سی چیزیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ دنیا کی مصروفیات، مال و دولت، عہدے، شہرت اور آسائشیں سب اپنی جگہ رہ جاتی ہیں، مگر وہ ہستی نہیں رہتی جس کے سامنے انسان اپنی ہر کامیابی لے کر جاتا تھا، جس کی دعا میں اپنی ہر پریشانی کا علاج ڈھونڈتا تھا۔
آج مولانا سید ابو القاسم رضوی صاحب کے لیے شاید دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔
آج ان کے پاس اپنی ماں کی یاد ہے۔۔۔
ان کے ہاتھوں کی خوشبو ہے۔۔۔
ان کی آواز کی بازگشت ہے۔۔۔
ان کی دعاؤں کا سرمایہ ہے۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا خلا ہے جسے کوئی دوسرا رشتہ کبھی پُر نہیں کرسکتا۔
ہم اس غم کی گہرائی کو کیا سمجھیں؟
ہم کیا تعزیت کریں؟
کس لفظ سے اس درد کو چھوئیں؟
کون سا جملہ اس زخم پر مرہم رکھ سکتا ہے؟
ایسے موقع پر الفاظ خود شرمندہ ہوجاتے ہیں۔
بس دل سے دعا نکلتی ہے کہ اے خداوندِ متعال! جس ماں نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے وقف کردی، آج اس کی آخری منزلوں کو اپنی رحمت سے آسان فرما۔ جس نے اپنی اولاد کے لیے راتوں کو جاگ کر دعائیں کیں، آج اس کے لیے اپنے فرشتوں کو رحمت کے ساتھ بھیج دے۔ جس کے ہاتھ اولاد کے لیے اٹھتے رہے، آج اپنی رحمت کے ہاتھ اس کے لیے اٹھا دے۔
پروردگارِ عالم! اس ماں کی قبر کو اندھیری قبر نہ بنانا، اسے نور سے بھر دینا۔ اس تنہائی میں اس کا ساتھ دینا۔ اس کی وحشت کو اپنی رحمت سے دور کرنا۔ اس کے درجات بلند فرمانا اور اسے محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمانا۔
اے ربِ کریم!
سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے صدقے اس مرحومہ کی مغفرت فرما۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے وسیلے سے اس کی قبر کو امن عطا فرما۔
امام حسین علیہ السلام کے صدقے اس کے درجات بلند فرما۔
اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے وسیلے سے اسے جنت الفردوس میں وہ مقام عطا فرما جہاں نہ کوئی جدائی ہو، نہ کوئی خوف، نہ کوئی غم۔
اور اے خدا! اس ماں کے بیٹے کو صبر عطا فرما۔
اس وقت اسے دنیا کی کسی تسلی سے زیادہ اپنی رحمت کی ضرورت ہے۔
اس کے دل کو وہ سکون عطا فرما جو صرف تو دے سکتا ہے۔
جب کبھی اسے اپنی ماں کی یاد میں آنکھیں نم ہوں تو ان آنسوؤں کو اجر بنا دینا۔
جب کبھی وہ ماں کی آواز کو یاد کرے تو اس یاد کو اس کے لیے رحمت بنا دینا۔
اور جب کبھی اس کے دل سے بے اختیار یہ صدا نکلے کہ "کاش میری ماں آج بھی زندہ ہوتی" تو اس کے دل کو یہ یقین عطا کرنا کہ ایک دن وہ اپنی ماں سے ایسی جگہ ملے گا جہاں پھر کبھی جدائی نہیں ہوگی۔
ہم مولانا سید ابو القاسم رضوی صاحب، ان کے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور متعلقین کی خدمت میں اپنے دل کی گہرائیوں سے تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
خدا گواہ ہے کہ اس غم میں ہمارے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر آنکھیں کہتی ہیں کہ خاموش رہو۔۔۔
کیونکہ ماں کی جدائی کا غم لکھا نہیں جاتا، صرف محسوس کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رحمتِ واسعہ میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے جوار میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین، بحقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام۔
شریکِ غم
سید حسین مہدی









آپ کا تبصرہ